Sun. Nov 27th, 2022

رہنما ہدایات

guideline

تقوی

1.      کسی مستند شیخ سےاصلاحی تعلق قائم کریں۔

2.      تلاوت کم ازکم ایک پارہ ،ذکر ، درود شریف ،اور استغفارحسب ہدایت شیخ کا اہتمامکریں۔

3.      کم ازکم ہفتہ وار تہجد پڑھیں۔

4.      ایام بیض کے روزوں کا معمول بنائیں۔

5.      مالی معاملات میں  اپنی ساکھ اور دامن بچا کر رکھیں

6.      عطیات وغیرہ کی کمپین میں اجتماعی اموال  جلد از جلد جمع کرائیں تاکہ غفلت سے بھی  حرام  میں تلوث نہ ہو۔

صحت

صحت بر قرار رکھنے کے لیے

1.      رات میں4 سے 5 گھنٹے اچھی اور گہری نینداوردن میں مختصر﴿زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ﴾ قیلولہ کی عادت بنائیں۔

2.      وقت پر سونے اور وقت پر جاگنے کا معمول بنائیں۔ رات 1030 تک سو جائیں اور صبح 430 تک اٹھ جائیں۔قیلولہ دوپہر 2 سے 3 مناسب ہے۔ بقیہ اوقات میں نشاط کے ساتھ دینی خدمات میں منہمک رہیں۔

3.      روزانہ آدھا،پون گھنٹہ تیز چلنےWalk  کو اپنے معمولات کا حصہ بنائیں۔

4.      پندرہ منٹ  سے آدھا گھنٹہ ہلکی پھلکی ورزش کریں۔

5.     خوراک متوازن رکھیں۔مرغن کھانے کم کھائیں۔ مصنوعی میٹھا کم کردیں۔ نیز چائے، نسوار،گٹکے وغیرہ سے  بھی بچیں۔

2.3اپنی علمی ترقی کا سفر جاری رکھیں

1.      کل وقتی یا جز وقتی تدریس  ضرور کریں

2.      اکابر کی کتب کا یومیہ ١۵ منٹ مطالعہ کریں

3.      معارف القرآن، معارف الحدیث وغیرہ سے مطالعہ کر کے دروس دیں

4.      مزید شارٹ کورسز  اور ورکشاپس کرتے رہیں

5.      مزید تخصصات یا عصری تعلیم حاصل کرتے رہیں۔

خانگی رویے

1.      گھر والوں کے لیےکم از کمایک گھنٹہ مختص فرما ئیں ۔

2.      اس خصوصی وقت میں اپنی بات سنانے پر اصرار نہ فرمائیں۔  اپنے والدین کے پاس بیٹھیں ۔ ان کی اور بچوںکی باتیں سنیں۔ اہلیہ کے ذہن میں جو باتیں ہیں انہیں کہنے دیں۔

3.      بچوں کی اخلاقی تربیت کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھیں۔ بچوں کے روز مرہ کے معمولات کی نگرانی رکھیں۔ ان کے دوستوں کے بارے میں معلومات رکھیں۔

4.      بچوں کی تخلیقی صلاحیت ابھارنےکی کوشش کریں۔ انہیں مختلف کورسز کرائیں۔ اسٹیج پر موقع دیں۔ ان سےایسے انداز میں خدمت لیں جس سےان میں نظم   اور اطاعت پیدا ہو۔

5.      دینداری پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں لیکن یاد رکھیں کہ حفظ سب  بچوں کا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہر بچے کا ذی استعدادعالم یا مفتی بننا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کی دلچسپی اور صلاحیت ، نیز اپنی مالی استعداد کو دیکھ کر ان کےتعلیمی  فیصلے کریں۔جو اس شعبے کے مناسب ہوں  انہیں امدارس میں مواقع دیں۔ ہنر بھی ضرور سکھا دیں۔ اعلی تعلیم کے لیے بھی بڑوں سے مشاورت کر کے  فیصلے کریں تاکہ بچے کا وقت اور آپ کے وسائل ضائع نہ ہوں۔

5.      گھر میں فضائل اعمال یا اکابر کی کتب سے یومیہ تعلیم کا اہتمام کریں۔

6.      کھانا اکثر گھر پر مل کر کھائیں اور اس دوران ہلکی پھلکی گفتگو  کر کے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھیں۔

خاندان میں کردار

1.      ایک رہنما کی حیثیت سےخاندان کے اجتماعی و خصوصی معاملات میں حصہ لیں۔

2.      رشتہ داروں میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کے لیے جائیں۔

3.      عزیزواقارب کے نکاح و دیگر جائزخوشیوں میں شریک ہوں ۔ اسی طرح ان کی غمی میں بھی ضرور شرکت کریں۔

4.      رشتہ داروں کے لڑائی جھگڑے میں کسی ایک کا ساتھ دینے کے بجا ئے ان کی مصالحت کروائیں۔

5.      صاحبِ حیثیت رشتہ داروں کو غریب ومسکین رشتے داروں کی مدد کی نہ صرف ترغیب دیں۔بلکہ ان کے اور مسکینوں کے درمیان واسطہ  بنیں۔

6.      اپنے عزیزو اقارب کو جامعہ اور ذیلی اداروں سے استفادہ کی دعوت دیں۔

7.      ان کے لیے درس قرآن یا وعظ کااہتمام کریں

2.6اہل محلہ کیساتھ تعلقات اور علاقائی خدمات

1.      اہلِ محلہ سے میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کے لیے جائیں۔

2.      اہل محلہ کی فوتگی اور ان کی غمی میں ضرور شرکت کریں اور ان کی دل جوئی کریں۔

3.      اہل محلہ کے نکاح اور ان کی جائز خوشیوں اور تقاریب میں شریک ہوں اور ان کو مبارک باد دیں۔

4.      علاقے کی فلاحی سر گرمیوں میں حصہ لیں۔ معمار ٹرسٹ کے تعاون یا علاقائی طور پر کوئی ادارہ رجسٹر کروا کر کام کیا جا سکتا ہے۔

5.      ان کے لیے درس قرآن یا وعظ کااہتمام کریں

6.      جامعہ کے آن لائن  سیمینار کا نظم بنائیں۔

جامعہ سے وابستگی

1.اسلام، بچوں کا اسلام، خواتین کا اسلام،شریعہ اینڈ بزنس جرائد اہمیت سے پڑھا کریں۔

2.      SCS, Halal foundation ووغیرہ اداروںسے استفادہ کریں۔

3.       اساتذہ سے رابطہ رکھیں۔

4.      حسب سہولت علاقے کے اہم طبقات کو جامعہ کا تعارف کروائیں۔ نیز جامعہ کا دورہ بھی کروائیں۔

5.      واٹس اپ گروپ میں اپنی وابستگی کے اظہار کے لیے مختلف ادارتی کمپینز پر پابندی سے فیڈ بیک دیا کریں۔

6.      رابطہ ڈیسک کو اپنی کارکردگی سے آگاہ رکھیں۔

7.      علاقائی کمیٹی سے مشاورت اور   امیر مشورہ کی اطاعت کا اہتمام کریں۔

8.     جامعہ کے کام کو پھیلانے کے لیے جان ، مال اور وقت کی قربانی  کے ساتھ محنت جاری رکھیں۔

جامعہ کا حق ادا کریں

جامعہ نے آپ کو بہت کچھ سکھایا ہے اور موجودہ نظم میں جڑنے سے بھی آپ کی علاقائی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ ان شاء اللہ اب موقع ہے کہ آپ بھی جامعہ کے احسانات کاحق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ لہذا

a.      تمام معاملات میں وقار کا خیال رکھیں۔

b.      مالی بے قاعدگی کی تہمت سے ہمیشہ بچیں

c.      کام سلیقے اور منصوبہ بندی سے کریں۔ آپ کی کمزوری جامعہ کی کمزوری سمجھی جائے گی

d.      دیگر مدارس اور علماء کے احترام میں ذرا بھر بھی کمی نہ ہو۔

e.      جامعہ کے لیے ذی استعداد طلبہ و فضلاء ڈھونڈ کر ان کی تشکیل فرمائیں

f.       تمام کام علاقائی قوانین و عرف کی رعایت سے کریں۔

g.      علاقائی شوری کے ساتھ سمع و طاعة کا مظاہرہ کریں

h.      با اثر شخصیات سے دنیاوی مفاد طلب کرنے سے بچیں۔ جو عزت بلا طلب ملے اسے قبول کرنے میں حرج نہیں

i.        ذاتی طور پر کچھ رقم  مثلاماہانہ 100روپےجامعہ کے فنڈ میں ڈالنے کا اہتمام کریں

j.        علاقے سے جامعہ کے اخراجات کے لیے اپنی مقدور کوششوں کا معمول بنائیں

k.     اپنی کوششوں سے آگاہ کرتے رہیں تاکہ آپ کے اساتذہ اور حضرت استاذ صاحب کاسینہ چوڑا اور دل ٹھنڈا ہو سکے۔