Sun. Nov 27th, 2022

 تعارف

نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:

" لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْخَيْرٍ يَسْمَعُهُ حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةَ" ”

مؤمن کا جی کبھی بھی خیر کی باتیں سننے سے نہیں بھرتا یہاں تک کہ جنّت  اُس کا ٹھکانہ بن جائے۔“ (سنن الترمذی باب ما جاء في فضل الفقة على العبادة:2827) انسانی زندگی جہدِ مسلسل سے  عبارت ہے اور انسانزندگی بھر خیر کی باتیں  سنتا اور سیکھتا ہے، بالخصوص  اکابر اور اللہ والوں کےباتیں سننا اور ان کے تجارب  سے استفادہ کرنا بڑی خوش نصیبی کی بات ہے اور اس سےصدیوں پر محیط کٹھن سفر  سالوں  میں طےہوجاتا ہے۔ بحمداللہ جامعۃ الرشید کو اللہ نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ  وہ اپنے فضلائے کرام کی دینی ودنیاوی ترقی کے لیےکوشاں رہتاہے اور اس مقصد کے لیے”سالانہ اجتماع“ کا انعقاد کرتا ہے ۔اس سال بھی  فضلائے کرام کی بڑی تعداد  نے اس اجتماع  کو رونق بخشی  اوراساتذہ کرام کے  قیمتی بیانات ،گرانقدر ہدایات اور  ایک دوسرے کے تجارب  سے استفادہ کیا، جس کے نتیجے میں  اخلاص وللہیت ، عمل کا جذبہ  اور ولولہ پیدا ہوا ۔ اسی دوران یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ مزید قیمتی ہدایات اور باہم مربوط رہنے کے  نظم سے بھی فضلائے کرام کو آگاہی دی جاتی رہے گی۔ زیرِ نظر کتابچہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ جامعۃ الرشید ایک نظریاتی تعلیمی ادارہ ہے جو اپنے بیٹوں سے بہت سی  نیک توقعات رکھتا ہے اور وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کے تحت  ان  توقعات کو پورا کرنے کےمواقع بھی فراہم کرتاہے۔ جامعۃ الرشید  اپنے فضلائے کرام سے یہ توقع رکھتا ہے کہ  وہ عوامی سطح پر بے لوث  دینی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع تر  کرتے چلے جائیں گے۔۔۔ ماہانہ  اور ہفتہ واری عوامی دروس  کا باقاعدہ نظم بنائیں گے۔۔۔ بااثر شخصیات کو دینِ خداوندی  کی طرف متوجہ کریں گے۔۔۔ جامعۃ الرشید کے نظریے اور نظام تعلیم کو فروغ دیں  گے۔۔۔معاشرے کے قابل ترینبچوں/ افراد کو جامعۃ الرشید کے تعلیمی شعبہ جات کی طرف متوجہ کریں گے۔۔ وغیرہ۔ اسی طرح  فضلائے کرام  کی بھی اپنی   مادرِ علمی  سے کچھ توقعات ہوں گی کہ مادرِ علمی اُن کے ساتھ علمی، تحقیقی  اوردعوتی سرگرمیوں میں تعاون کرے۔۔۔اساتذہ کرامان پر دستِ شفقت رکھیں اور سرپرستی فرمائیں۔۔۔ جامعہ کے ذیلی شعبے:SCS،  دارالافتاء، شریعہ اینڈ بزنس، حلال فاؤنڈیشن،CPRD،میڈیا پبلی کیشن، ڈیجیٹل لائبریری ، رفاہی اداروں وغیرہ  سے استفادہ  کی صورتیں پیدا کی جائیں ۔۔۔جدید علمی وفکری تحقیقات سے  وہ بروقت آگاہ ہوسکیں۔۔۔وغیرہ۔ یادرکھیں!یہ باہمی توقعات تب ہی پوری ہوسکیں گی  جب  مادرِ علمی سے ربط وتعلق مضبوط  ہوگا، فضلائے کرام باہم مربوط ہوکر اجتماعی نظم کے تحت  خدمات سرانجام دیں گے اور اساتذہ کی طرف سے مرتب کردہ قیمتی ہدایات (Guidelines)کے مجموعوں پر سختی سے کاربند رہیں گے۔ مادرِ علمی سے مربوط رہنے کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ کے نام سے ایک نظم ترتیب دیا گیا ہے جس کے اغراض ومقاصد، دائرہ کار اور طریقہ کار اس کتابچہمیں موجود ہے۔ لہذا  اسے حرف بحرف غور سے  پڑھیے،سمجھیے،عمل کیجیے اور طے شدہ نظم کی پابندی کیجیے!

(اللهم وفقنا لما تحب وترضى)